Tuesday, 7 April 2015



ہاشم پورہ قتل عام : عدالت کا فیصلہ مایوس کن

راشدالاسلام

میرٹھ کے ہاشم پورہ میں1987 میں42مسلمانوں کے قتل عام کے سبھی16قصور واروں کو دہلی کی تیس ہزاری عدالت کے ذریعہ بری کردئے جانے پرہرذی شعورانسان حواس باختہ ہے۔چاہے ہندوہویامسلم ،سکھ یاعیسائی سب نے اسے عدلیہ کے نظام پر ایک سیاہ داغ سے تعبیر کیا ہے۔ ہاشم پورہ میں1987میں ایک مسجد کے باہر جمع500مسلمانوں میں سے50کو پی اے سی کے جوانوں نے ایک ٹرک میں اغوا کرکے لے گئے اور ان میں سے42کو گولی مارکرمرادنگر نہر میں پھینک دیا تھا جس میں کچھ مسلمان زندہ  بچ گئے اور انہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا اس کے بعد معاملہ روشنی میں آیا،ایف آئی آر درج ہوئی ۔  اسی واقعہ کے ملزمین کوحالیہ چنددنوں پہلے ہماری عدالت نے باعزت بری کردیا۔جوحیرت کن اورتشویشناک بھی ہے۔ الزام یوپی حکومت پر بھی لگا کہ اس نے مقدمہ کی بہتر طور پر پیروی نہیں کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا جو ہندوستان کے سیکولر نظام پر ایک سخت حملہ ہے۔ پی اے سی کی تمام تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور وقت وقت پر حقوقِ انسانی کے کارکنان پی ایس سی کے طریقۂ کار میں اصلاح کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ا س سمت کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا جس کے سبب ہاشم پورا، ملیانہ اور مراد آباد جیسے قتل عام ہوئے۔عدلیہ کے حالیہ فیصلے سے ملک کے آئین کو بھی صدمہ پہنچا ہے۔ ہاشم پورہ کیس میںعدالت کے فیصلہ سے مسلمان ہی نہیں ہرمذاہب کے لوگ حیران وششدرہے کیونکہ دن دہاڑے مسلم نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑاکرکے گولیوں سے بھون ڈالنے والے پولیس والوں کو بری کیاجاناہندوستانی عدالتی نظام کی شناخت اورحیثیت پر سوالیہ نشان لگاتاہے ۔عدالت نے ان ملزمین کو بری کرتے ہوئے جو یہ کہاہے کہ ان کے خلاف کثیر مقدارمیں ثبوت نہیں مل سکے ،اس میں بھی خاطرخواہ سچائی نہیں ہے اور استغاثہ کی جانب سے ان پولیس والوں کو مجرم ثابت کرنے والے پختہ ثبوت اور شواہد پیش کیے گئے تھے مگر انھیں نظر انداز کردیاگیااورمظلوموں کو انصاف دلانے کے بجائے ان کے زخموں کو ہراکرنے کاکام کیاگیاہے۔لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر16پی ایس سی کے جوان مسلمانوں کے قاتل نہیں تھے تو42مسلمانوں کو مارنے  والے کون لوگ ہیں؟ سوال یہ بھی ہوتا ہے اگر یہ لوگ واقعی بے قصور ہیں تو پھر مجرم کون ہے؟کیا خونریزی کا یہ واقعہ پیش نہیں آیا اور اگر آیا تو کیا گولیاں خود ہی چل گئیں ؟یا خدا نخواستہ یہ 42نوجوان خود ہی مرگئے؟ اس کیس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ہولناک خونریزی کے لئے استغاثہ اور یوپی پولس ذمہ داری متعین کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔ عدالت کا یہ کہہ دینا کہ ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر ملزمان کو بری کیاجاتاہے ،متأثرین کو انصاف نہیں دلاتا۔ اترپردیش حکومت کو آخر یہ توبتانا ہی پڑے گا کہ 22 مئی 1987 کوکیا مسلم نوجوانوں کا یہ قتل ہواتھا؟ اور اس کے لئے کون ذمہ دارہے ؟ ذوالفقارنامی اس شخص کا ذکرکیاجو اس ہولناک خونریزی میں گولی لگنے کے باوجود بچ گیاتھا۔انہوں نے کہاکہ میں نے یہ ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھاتھااور مجھے بھی گولی مارکر نہر میں پھینک دیاگیا تھا۔ اس زندہ ثبوت کے باوجود عدالت اگر عدم ثبوت کی بنیاد پر ملزمان کو رہاکرتی ہے تو اسے انصاف کا خون ہی کہاجائیگا۔کیا اس بہیمانہ قتل کے کیس میں عدالتی فیصلے کے خلاف یوپی سرکار کے سامنے ہائیکورٹ جانے کیلئے کیاکوئی عذرہوسکتاہے ؟  اگر اس بہیمانہ قتل عام کے متاثرین کو اترپردیش سرکار انصاف دلانے میں ناکام رہتی ہے تو پھر اس کا مسلمانوں کی مسیحائی کرنے کا دعویٰ کھوکھلاثابت ہوگا۔ ظلم، ناانصافی، محرومی اور تعصب کی بنیادپر اگر کسی فرقے یاطبقے کو مسلسل نشانہ بنایا جاتاہے توپھر ہم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں مہذب سماج کی تعمیر کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔نہ صرف پی ایس سی بلکہ مکمل انتظامیہ فرقہ پرستی کا شکار ہے اورا س طرح کی فرقہ وارانہ فکر نہ صرف ہندوستانی سماج بلکہ ملک کے لئے بھی ہراعتبارسے مضر ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ سے متاثرہ خاندان انصاف سے محروم رہ گئے جوہندوستان کے سیکولرنظام پرایک حملہ ہے۔ آزادہندوستان میںہونے والے مسلم مخالف فسادات میںپی ایس سی کاکردارہمیشہ سے مسلم مخالف رہاہے اورپی ایس سی کی تاریخ ان کے ظلم وزیادتیوںکی گواہ ہے۔کیس میں کیاہے؟ ثبوتوں کا فقدان، ناکافی شواہد یا کیس کی پیروی میں کمزوری اس فیصلہ کی جو بھی وجہ رہی ہو اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے جو متأثرین عرصہ دراز سے عدالت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، انہیں مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں لگا، بلکہ انصاف سے ان کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔28 سال قبل میرٹھ میں پیش آئے دل دہلانے دینے والے ہاشم پورہ میں مسلمانوں کے قتل عام کے معاملہ میں تقریباً تین دہائیوں کے بعد دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کی ثبوتوں کی عدم دستیابی کا فائدہ دیتے ہوئے کلین چٹ دے دی ہے۔ کیایہ عدالت کا منصفانہ عمل ہے؟بلکہ عدلیہ کے غیرمنصفانہ فیصلے سے ملک کی جمہوریت اور انصاف پسند سماج کے لئے یوم سیاہ ہے ۔ملک کے مسلمان ہندوستان کی عدلیہ پرمکمل یقین رکھتے ہیں اسلئے عدالت کے فیصلہ پرمعاملہ کی ملی رہنماؤ ں کو عدالت عظمیٰ میں جاکر مضبوط پیروی کریں۔جن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ہاشم پورہ قتل عام کی وردارت کو دیکھا تھا وہ آج بھی اس منظر کو بھول نہیں پائے ہیں۔ ہاشم پورہ معاملہ میں صحیح پیروی نہ ہونے کے سبب کورٹ کایہ فیصلہ آیا ہے۔ مسلم رہنماؤں اور لیڈران کو چاہئے کہ وہ انصاف کے حصول کے خاطر عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں تاکہ اس اندوہناک واقعہ کے متاثرین کو انصاف مل سکے۔ 28 سال قبل 22مئی 1987 کو ہاشم پورہ میں سفاکانا قتل کاسانحہ پیش آیا اس وقت یوپی کے وزیراعلیٰ ویربہادرسنگھ تھے۔ وزیر اعلی ویر بہادر سنگھ اور مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے اشارے پر پولیس اور انتظایہ کے ذریعہ اس درد ناک اور وحشیانہ واردات کو انجام دیا گیا تھا جس میں 42 بے گناہ لوگ مارے گئے تھے لیکن کسی بھی حکومت کے ذریعہ اس میں ملوث ایک بھی اہلکار کو نہ تو معطل کیا گیا اور نہ ہی انکی گرفتاریاں ہوئیں۔ عوامی احتجاج کے بعد معاملے کی سی بی سی آئی تحقیقات کرائی گئی جس کی رپورٹ 1994میں آئی جس میں 66پولیس اور پی ایس سی کے اہلکاروں کوقصور وارپایا گیا لیکن حکومت سے صرف 19 لوگوں کے خلاف کیس شروع کیا اس وقت صوبے میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی اور ملائم سنگھ یادو اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے ۔ پولیس کے ذریعہ ہاشم پورہ کے اجتماعی قتل عام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے نارائن دت تیواری حکومت نے جسٹس گیان پرکاش واجپئی کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا تھا جس نے 1991 میں صوبائی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی اسوقت صوبے کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو تھے لیکن انھوں نے اس رپورٹ پر کاروائی کرنے کے بجائے اسے التوا میں ڈالنے کی نیت سے گرو شرن شریواسوا کی سربراہی میں ایک دوسرا کمیشن بنا دیا اور یہ کہا گیا کہ یہ کمیشن  اس بات کی تحقیق کرے گی کہ جسٹس گیان پرکاش واجپئی کمیشن کی رپورٹ صحیح ہے یا غلط اس طریقے سے جسٹس شریواستوا کمیشن کی رپورٹ جب حکومت کے سامنے پیش کی گئی تو ملائم سنگھ یادو مسلمانوں کے ووٹوں سے دوسری بار صوبے کے وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھ چکے تھے ۔اس وقت ملائم سنگھ یادو کی حکومت نے عوامی مظاہروں کے بعدبھی ان رپورٹوں کو نہ اسمبلی میں پیش کیا ،نہ تو اسے شائع کیا اور نہ ہی ان رپوٹوں میں قصوروار قرار دئے گئے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جو آج بھی ان کمیشنوں کی رپورٹیں ردی کی ٹوکری میں پڑی ہوئی ہیں ،اسکے بعد بھی جتنی حکومتیں آئیں چاہے وہ سماجوادی پارٹی کی رہی ہو بہوجن سماج پارٹی یاکسی اور کی رہی ہو کسی بھی حکومت نے ہاشم پورہ کے متاثرین کے ساتھ انصاف نہیں کیابلکہ اس واردات میں ملوث اصل قصورواروں کی پشت پناہی اور انھیں بچانے کی منصوبہ بندی میں ہی لگے رہے ، قصورواروں کو بچانے میں سماجوادی پارٹی اور اسکی حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔پیروی کرنے کے معاملے میں ریاستی حکومت ذمہ دار ہے مگر مسلم تنظیموں کے ذمہ داران میں کہیں نہ کہیں بھول ضرورہوئی ہے ۔عدالت کے حالیہ فیصلے اوردیگرمعاملے میں ہمارے سیاسی ،سماجی اورملی رہنماؤں (علماء ہوں یادانشوران)کومحاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم سے کہاں بھول ہوئی ہے ۔کیونکہ اخباروں کے توسط معلوم ہوتا ہے کہ ہرمعاملے میںفیصلہ صادرہونے کے بعد ہمارے قاعدین اخًباروں کے زینت بنتے ہیں ۔ہاشم پورہ ناحق قتل معاملہ میں عدالت کوفیصلہ پرنظرثانی کرناچاہئے ۔ذیلی عدالت کافیصلہ حتمی فیصلہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی مضبوط پیروی ہونی چاہئے،تاکہ متاثرین کو انصاف اور مجرمین کوسزامل سکے۔

راشدالاسلام
سب ایڈیٹرروزنامہ عزیزالہند
rashid110002@gmail.com
رابطہ:9810863428

No comments:

Post a Comment